سیرتِ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ

سیرت سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ

✍: فواد اسلم المدنی

اسلام میں نبیوں کے بعد سب سے افضل انسان حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن تیم بن مرہ بن کعب ہے۔ مرہ بن کعب تک آپ کے سلسلہ نسب میں کل چھ واسطے ہیں۔ مرہ بن کعب پر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب سے جاملتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دو لقب زیادہ مشہور ہیں:عتیق اورصدیق

واقعہ فیل کے تین برس بعد آپ کی مکہ میں ولادت ہوئی۔ آپ کا نام پہلے عبدالکعبہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بدل کر عبداللہ رکھا، آپ کی کنیت ابوبکر تھی۔ آپ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو تیم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد کا نام عثمان بن ابی قحافہ اور والدہ کا نام ام الخیر سلمٰی تھا۔ آپ کا خاندانی پیشہ تجارت اور کاروبار تھا۔ مکہ میں آپ کے خاندان کو نہایت معزز مانا جاتا تھا۔ کتب سیرت اور اسلامی تاریخ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعثت سے قبل ہی آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان گہرے دوستانہ مراسم تھے۔ ایک دوسرے کے پاس آمد و رفت، نشست و برخاست، ہر اہم معاملات پر صلاح و مشورہ روز کا معمول تھا۔ مزاج میں یکسانیت کے باعث باہمی انس ومحبت کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ بعثت کے اعلان کے بعد آپ نے بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ ایمان لانے کے بعد آپ نے اپنے مال و دولت کو خرچ کرکے مؤذن رسول حضرت بلال سمیت بے شمار ایسے غلاموں کو آزاد کیا جن کو ان کے ظالم آقاؤں کی جانب سے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں سخت ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ آپ کی دعوت پر ہی حضرت عثمان، حضرت زبیر بن العوام، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص جیسے اکابر صحابہ ایمان لائے جن کو بعد میں دربار رسالت سے عشرہ مبشرہ کی نوید عطا ہوئی۔

عتیق پہلا لقب ہے، اسلام میں سب سے پہلے آپ کو اسی لقب سے ہی ملقب کیا گیا۔نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: اَنْتَ عَتِیْقٌ مِنَ النَّار ’’تم جہنم سے آزاد ہو‘‘۔ تب سے آپ رضی اللہ عنہ کا نام عتیق ہوگیا۔( رواه الترمذي : ٣٦٧٩)اورفرمایا: مَنْ اَرَادَ اَنْ یَنْظُرَ الی عَتیقٍ مِنَ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اِلیٰ اَبی بَکْر.’’جو دوزخ سے آزاد شخص کو دیکھنا چاہے، وہ ابوبکر کو دیکھ لے‘‘۔(المعجم الاوسط، الرقم: 9384)

آپ رضی اللہ عنہ کے لقب ’’صدیق‘‘ کے حوالے سے حضرت سیدہ حبشیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یَا اَبَابَکْرٍ اِنَّ الله قَدْ سَمَّاك الصِّدِّیق ’’اے ابوبکر! بے شک اللہ رب العزت نے تمہارا نام ’’صدیق‘‘ رکھا‘‘۔(الاصابۃفی تمییز الصحابۃ، حرف النون، 8: 332)

اور اسی طرح سے اسراء و معراج کے واقعے کے بعد جس ایمان و ایقان سے آپ نے سرورکائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی تھی کہ پھر آپ رضی اللہ عنہ اس کے بعد صدّیق مشہور ہوگئے۔

انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت کرنا، اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے۔جماعت ِ صحابہ میں سے خاص طور پر وہ ہستیاں جنہوں نے آپ ﷺ کے بعد اس امت کی زمامِ اقتدار، امارت، قیادت اور سیادت کی ذمہ داری سنبھالی، امور دنیا اور نظامِ حکومت چلانے کے لیے ان کے اجتہادات اور فیصلوں کو شریعت ِ اسلامی میں ایک قانونی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان بابرکت شخصیات میں سے خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق سب سے اعلیٰ مرتبے اور بلند منصب پر فائز تھے اور ایثارو قربانی اور صبر واستقامت کا مثالی نمونہ تھے۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ہیں۔

سیدنا ابو بکر صدیق ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کے بچپن کے دوست اور ساتھی تھے۔اورآپﷺ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے۔ رسول اللہﷺ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمنین ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں او ریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے والدین کو دین اسلام ہی پر کار بند پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح وشام دونوں وقت ہمارے گھر تشریف نہ لاتے ہوں۔ جب کفار مکہ نے مسلمانوں کو بہت ستایا تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حبشہ کی طرف ہجرت کی نیت سے نکلے، جب مقام ”برك الغماد “پہنچے تو وہاں ابن الدغنہ سے ملے، وہ قوم قارہ کا سردار تھا، اس نے پوچھا: اے ابوبکر! کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: « أخرجني قومي فأرید أن أسیح في الأرض و أعبد ربي»

مجھے میری قوم (قریش) نے نکال دیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ میں زمین میں سیر و سیاحت کروں اور اپنے رب کی عبادت کروں۔ ابن الدغنہ نے کہا: « فإن مثلك يا أبا بكر لا يخرج ولا يُخرج؛ إنك تكسب المعدوم، وتصل الرحم، وتحمل الكل، وتقري الضيف، وتُعين على نوائب الحق..

اے ابو بکر! تجھ جیسے لوگ نہ از خود نکلتے ہیں اور نہ نکالے جاتے ہیں۔ بلا شبہ تم مفلسوں کے لیے کماتے ہو، صلہ بھی کرتے ہو، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو اور حق پر قائم رہنے کی وجہ سے کسی پر آنے والی مصیبتوں میں اس کی مدد کرتے ہو۔

ہجرت مدینہ میں بھی خانوادہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کا کردار بڑا نمایاں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن ہم ٹھیک دوپہر کے وقت ابوبکر کے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کہنے والے نے ابوبکر سے کہا کہ رسول اللہ چہرہ مبارک ڈھانپے ہوئے ایسے وقت میں تشریف لا رہے ہیں جو آپ کے آنے کا وقت نہیں ہے۔ تو سیدنا ابو بکر نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کی قسم! آپ جو اس وقت آئے ہیں تو ضرور کوئی ضروری کام ہے۔ بہرحال رسول اللہتشریف لائے، اندر آنے کی اجازت طلب کی، جب اجازت دی گئی تو آپ اندر داخل ہوئے اور ابو بکر سے فرمایا: ’’جو لوگ تمھارے پاس ہیں انھیں یہاں سے بھیج دو (یعنی تنہائی میں بات کرنی ہے)‘‘ سیدنا ابو بکر نے کہا:اے اللہ کے رسول! میرا باپ آپ پر قربان، یہ آپ کے گھر والے ہی ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا: مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔حضرت ابو بکر ﷜ نے کہا:اے اللہ کے رسول! میرا باپ آپ پر قربان، کیا آپ مجھے اپنا ساتھ نصیب فرمائیں گے؟‘‘ رسول اللہ نے فرمایا: ہاں!‘‘ تو ابو بکر نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ آپ پر قربان، ان دونوں اونٹیوں میں سے جو کوئی آپ کو پسند ہے لیجئے۔‘‘ آپ نے فرمایا: (ٹھیک ہے، مگر میں) قیمت ادا کروں گا۔ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ (جب رسول اللہ اور ابوبکر نے سفر ہجرت کا ارادہ کر لیا تو ہم نے جلدی سے دونوں کا سامان سفر تیار کر کے ایک بڑے سے تھیلے میں رکھا تو اسماء بنت ابی بکر نے اپنا کمر بند پھاڑا اور اس سے تھیلے کا منہ باندھا، تو اسی وجہ سے ان کا نام ذات النطاقین رکھا گیا‘‘ )بخاري، کتاب مناقب الأنصار، باب ھجرۃ النبي وأصحابہ إلی المدینۃ(۔

آخری بات یہ کہ آپؓ کی فضیلت سیدنا علیؓ کی زبانی سننی چاہیئے سیدنا علی ؓنے ابو جحیفہ وہب بن عبد اللہ سے کہا: «يا أبا جحيفة ألا أخبرك بأفضل هذه الأمة بعد نبيها قلت بلى ولم أكن أرى أن أحدا أفضل منه قال أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وبعد أبي بكر عمر…(فضائل الصحابة:ج1/ص303 ح405).


صدیق اکبر کی شجاعت: امام ابن تیمیہؒ
امام ابن تیمیہؒ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ کی شان بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحابہ میں ابوبکر سے بڑھ کر بہادر کوئی اور نہیں تھا۔ امام نے پہلے اس نکتے پر روشی ڈالی ہے کہ شجاعت کہتے کسے ہیں؟ فرماتے ہیں کہ شجاعت اور بہادری یہ ہے کہ انسان کا دل مضبوط ہو؛ وہ دشمن کے خلاف اقدام کی قوت رکھتا ہو؛ گھبراہٹ اور خوف سے پاک ہو۔ اس لیے شجاعت دل کی صفت ہے؛ ورنہ بعض لوگوں کا جسم بڑا قوی ہوتا ہے مگر وہ دل کے انتہائی کم زور اور بزدل ہوتے ہیں۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ لڑائی میں بہت سے لوگوں کو قتل کر ڈالتے ہیں مگر جب کوئی بڑا بحران آن پڑے اور دشمن چڑھ دوڑے تو یہ اس کے مقابلے میں کم زور پڑ جاتے یا خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔
ابوبکر صحابہ میں سب سے زیادہ قوی القلب تھے؛ اضطرابِ نفس پر سب سے زیادہ قابو رکھتے تھے؛ ثبات میں سب سے بڑھ کر اور اقدام میں سب سے شدید تر تھے۔ گھبراہٹ ان کے قریب نہ پھٹکتی تھی۔ اسی لیے جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو ان کی شجاعت و بسالت اور صبر وثبات کے پہلو آشکار ہوئے؛ ظاہر ہو گیا کہ امامتِ دین کا منصب انھی کو زیبا ہے؛ مرتدوں کی سرکوبی وہی کر سکتے ہیں اور اہلِ ایمان کی نصرت و اعانت اور ان کے معاملات کی نگہ داشت انھی سے ممکن ہے۔
ہر وہ شخص جسے شجاعت کی حقیقت سے کچھ آگہی ہے ، یہ جانتا ہے کہ صحابہ میں شجاعت اور بہادری کے اعتبار سے کوئی شخص ابوبکر کے نزدیک بھی نہیں؛ ان کا شریک و سہیم تو کیا ہو سکتا ہے!! (جامع المسائل، 3: 250-249)


اس تعلق سے ایک نا معلوم شاعر کی نظم ملاحظہ فرمائیں.

ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣﺪﺩﮔﺎﺭ ﭘﮩﻼ ﺻﺤﺎﺑﯽ ؓ
ﻧﺒﯽ ﻧﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﭘﺮ ﺩﻋﺎ ﺩﯼ
ﻭﮦ ﺍﻓﻀﻞ ﺑﺸﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺯ ﺍﻧﺒﯿﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﮨﮯ
ﻧﺒﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺗﺮ ﺍِﻣﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻋﻠﯽ
ﻣﺤﻤﺪ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺩﻡ ﻭﻓﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ؓ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﺑﺸﺮ ﮐﯽ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﭨﮭﮩﺮ ﺍ
ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﻭﮦ ﻣِﯿﻨﺎﺭ ﭨﮭﮩﺮﺍ
ﭼﭩﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻗﺪﻡ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺏِ ﺣﺮﻡ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﻗﺮﺁﻥ ﺟﯿﺴﺎ
ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺗﮭﺎ ﺍِﮎ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺟﯿﺴﺎ
ﺧﺪﺍ ﺍﺱ ؓ ﭘﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺍ ﻭﮦ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ
ﮐﮩﮯ ﻗﺪﺳﯽ ﺁﻣﯿﻦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﭘﺮ
ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻭﮦ ﻋﺮﺵِ ﺑﺮﯾﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧﺮﺍﻻ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﮨﮯ
ﺩُﻋﺎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﺍﮔﺮ ﻟﺐ ﮨﻼ ﺩﮮ
ﺧﺪﺍ ﺍﺱ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺰﺍﻧﮯ ﻟﭩﺎ ﺩﮮ
ﻭﮨﯽ ’’ ﺛﺎﻧﯽ ﺍﺛﻨﯿﻦ ‘‘ ﮐﺎ ﮨﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ
ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﺳﺐ ﻣﺮﺍﺗﺐ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ؓ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﺭﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﭘﮧ ﺭﮐﮫ ﺩﮮ ﻭﮦ ﻻ ﮐﺮ
ﭼﻠﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ
ﺑﺠُﺰ ﺍﻧﺒﯿﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ
ﻭﮨﯽ ﺻﺮﻑ ﺻﺪﯾﻖِ ﺍﮐﺒﺮ ؓ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍُﻣﺘﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﺘﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﻤﺴﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ’’ ﺻﺪﯾﻖؓ ‘‘ ﻣﺎﻧﮯ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ
ﺩﯾﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺭﺗﺒﮯ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ؓ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﮞ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﭘﺮ
ﻣﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
ﻣﺮﺍ ﮨﺮ ﻧﻔَﺲ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﷺﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﻟﻮﭨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﺁﺅﮞ
ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺟﺎﺅﮞ
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺫﮐﺮِ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﷺﮨﮯ
ﻭﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﻢ ِ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮؓ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮐﺎ ﭘﯿﮑﺮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ
ﻭﮦ ﻏﻢ ﺧﻮﺍﺭ ﭘﮩﻼ ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﷺ ﮐﺎ
ﻧﺒﯽ ﷺ ﺳﮯ ﻭﮦؓ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﮨﭩﺎﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻧﺒﯽ ﷺ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯿﮟ ﮨﮯ
ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺁﺋﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﯽ ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺁﺋﮯ
ﻭﮦ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼؓ
ﻭﮦ ﺑﺎﺭِﺧﻼﻓﺖ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ
ؓ
ﺻﺪﺍﻗﺖ ﺷﺠﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ
ﻧﺒﯽ ﷺ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ
ﺭﺳﻮﻝِ ﺧﺪﺍ ﷺ ﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻؓ
ﻭﮦ ﺟﺎﻥ ِ ﺣﯿﺎ ﷺ ﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ؓ
ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﻓﻘﻂ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﷺ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ؓ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣﺠﺎﮦؓﺩ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﮨﮯ ﻏﺎﺯﯼؓ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧؓ ، ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻧﻤﺎﺯﯼ
ؓ
ﺯﻣﯿﮟ ﭘﺮ ﭼﺮﺍﻍِ ﻭﻓﺎ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ
ﺣﺒﯿﺐِ ﺣﺒﯿﺐِ ﺧﺪﺍ ؓ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ
ﺗِﺮﺍ ﺛﺎﻧﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮ ؓ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﺭﮨﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﻭﮦ ﻓﻮﻻﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﻭﮦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﺭﺳﺎﻟﺖ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭ ﮐﮭﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻭﻇﯿﻔﮧ
ﻭﮦ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻧﺒﯽ ﷺ ﮐﺎ ﺧﻠﯿﻔﮧ
ﻭﮦ ﺣﮑﻢ ِ ﻧﺒﯽ ﷺ ﭘﺮ ﻓﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﺑﮩﺖ ﺟﺎﮔﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻢ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﻣﻘﺎﻡ ِ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﻧﺒﯽ ﷺ ﮐﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻭﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮؓ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﻧﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﺍﻋﯽ
ﺑﻼﺧﻮﻑ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺍُﮌﺍﺋﯽ
ﺧﻼﻓﺖ ﭘﮧ ﺣﻖ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ
ﻧﺒﯽ ﷺ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﻃﺎﻋﺖ
ﻧﺒﯽ ﷺ ﮐﯽ ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺷﻔﺎﻋﺖ
ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ
ﺗﺠﮭﮯ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﺍِﮎ ﻣﻨﻮﺭ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ
ﺷﻔﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺳﺎﺭﮮ ﺻﺤﺎﺑﮧ ؓ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻖ ﺍﮐﺒﺮؓ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻋﺮﺏ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﭘﮩﻼ ﻣﺪﺩﮔﺎﺭؓ ، ﭘﮩﻼ ﺻﺤﺎﺑﯽؓ
ﻧﺒﯽ ﷺﻧﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﭘﺮ ﺩُﻋﺎ ﺩﯼ
ﻭﮦ ﺍﻓﻀﻞ ﺑﺸﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺯ ﺍﻧﺒﯿﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﻭﮦ ﺟﺎﻥِ ﻭﻓﺎ ﮨﮯ

(نا معلوم)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*