اسلام میں سچائی کا مقام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

✍️ :فواد اسلم المدنی

سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا ٭٭٭ لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
صِدق ، جسے عام طور پر ہم لوگ سچائی کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں، اور اس کا مفہوم سچ بولنا لیا جاتا ہے ، لیکن اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان ظاہری طور پر ، باطنی طور پر ، سب کے سامنے ، اور تنہائی میں ، غرضیکہ ہر وقت اس طرح رہے کہ اُس کا عمل اور اُس کے اقوال ، اسکا ظاہر اور اس کا باطن ایک دوسرے کی تکذیب نہ کرتے ہوں ،
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اِرشاد فرمایا { لِیَجزِیَ اللَّہُ الصَّادِقِینَ بِصِدقِہِم وَیُعَذِّبَ المُنَافِقِینَ إِن شَاء أَو یَتُوبَ عَلَیہِم إِنَّ اللَّہَ کَانَ غَفُوراً رَّحِیماً :::{ تا کہ اللہ صِدق والوں کو اُن کے صِدق کی جزاء عطا فرمائے اور اگر چاہے تو منافقوں کو عذاب دے یا اُن کی توبہ قبول کرے بے شک اللہ بخشش کرنے والا اور بہت ہی رحم کرنے والا ہے} الأحزاب/آیت 24،
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں یہ خبر ملتی ہے کہ ، اِیمان کی بنیادوں میں سے اہم بنیاد صِدق ہے،اور منافقت کی بنیاد جھوٹ ہے ، پس ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ یہ دونوں ایک جگہ اکٹھے ہوں ، ایک دوسرے کو پہچان لیں اور ان کا جھگڑا نہ ہو، اور یہ خبر بھی ملتی ہے کہ مُنافقت آخرت میں عذاب کا سبب ہے جبکہ سچائی ثواب کا ، بلکہ معاملہ اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ نجات صرف ثواب پر موقوف نہیں ، بلکہ سچائی ہی آخرت میں بندے کی نجات کے بنیادی اسباب میں سے ہے ، جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان ہے { قَالَ اللّہُ هذَا یَومُ یَنفَعُ الصَّادِقِینَ صِدقُہُم لَہُم جَنَّاتٌ تَجرِی مِن تَحتِہَا الأَنہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا أَبَداً رَّضِیَ اللّہُ عَنہُم وَرَضُوا عَنہُ ذَلِکَ الفَوزُ العَظِیمُ :::{ اللہ نے فرمایا یہ وہ دن ہے جس میں سچے لوگوں کو ان کی سچائی نفع دے گی ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہہ رہے ہیں ، ان باغات میں یہ سچے لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ، اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ ہے عظیم کامیابی } سورت المائدہ / آیت 119، ایک دوسری جگہ اِرشاد فرمایا:{ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّہَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِینَ::: اے ایمان لانے والو اللہ (کے غیض و عذاب ) سے بچو اور سچائی والوں کے ساتھ رہو }سورت التوبہ / آیت 119، ۔۔۔اِمام ابن القیم رحمہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ””’ صِدق تین قسم کا ہوتا ہے ، قول میں ، عمل میں ، اور حال میں ،
:::
اقوال میں صِدق ::: یہ ہوتا کہ ::: زُبان اپنی کہی ہوئی باتوں پر قائم رہے جیسے( کسی پودے کی) بالی اُس کے تنے پر قائم رہتی ہے
:::
اعمال میں صِدق ::: یہ ہوتا ہے کہ ::: کاموں کو (اللہ اور رسول اللہ ﷺکے )احکام کے مطابق باقاعدگی اور مستقل مزاجی سے کیا جاتا رہے جیسا کہ جسم پر سر قائم ہوتا ہے
:::حال و احوال ( زندگی کے مختلف حالات اور اوقات) میں صِدق::: یہ ہوتا کہ دلی اعمال اور ظاہری خارجی أعضاء کے اعمال میں کو اپنی وسعت اور طاقت کو خوب اچھی طرح خرچ کرتے ہوئے مستقل مزاجی ، مضبوطی اور اخلاص کے ساتھ ادا کیا جائے ، (مدارج السالکین)
صِدق کی نشانی : دِل کا اِطمینان رسول اللہ ﷺنے فرمایا: دَع مَا یَرِیبُکَ إلی مَا لاَ یَرِیبُکَ فَإن الصِّدق َ طُمَأنِینَةٌ وَإِنَّ الکَذِبَ رِیبَةٌ ::: جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور جو شک میں نہ ڈالے وہ اپنا لو صِدق اطمینان ہے اور جھوٹ شک ۔

صِدق کے فائدے :

پہلا فائدہ:رسول اللہ ﷺکا اِرشاد مُبارک ہے{ إِنَّ الصِّدقَ یَہدِی إلی البِرِّ وَإِنَّ البِرَّ یَہدِی إلی الجَنَّۃِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَصدُقُ حتی یَکُونَ صِدِّیقًا وَإِنَّ الکَذِبَ یَہدِی إلی الفُجُورِ وَإِنَّ الفُجُورَ یَہدِی إلی النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَکذِبُ حتی یُکتَبَ عِندَ اللَّہِ کَذَّابًا ::: بے شک صِدق نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور یقینا نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اوروہ شخص جو صِدق پر (مستقل ) عمل پیرا رہتا ہے (اُسکے لیے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ) وہ اللہ کے ہاں صدیقوں میں لکھ لیا جاتا ہے اور جھوٹ یقینا برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی یقینا جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور وہ شخص جو ہمیشہ جھوٹ بولتا رہے (اُسکے لیے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ) وہ اللہ کے ہاں جھوٹوں میں لکھ لیا جاتا ہے }بُخاری / 7543

دوسرا فائدہ : اللہ کے یہاں ” صدیقین ” میں شُمار ہو جانے کے نتیجے میں یقینا اہل جنت میں سے ہو جانا۔
تیسرا فائدہ: صِدق والا لوگوں کی محبت اور ان کا اعتماد حاصل کر لیتا ہے ، اور اسے وہ احترام میسر ہو جاتا ہے جو کسی بڑے سے بڑے معاشرتی رتبے والا کو بھی میسر نہیں ہوتا ۔
چوتھا فائدہ: نفس کا اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔
پانچواں فائدہ: صِدق مصیبتوں اور پریشانیوں سے نکلنے کا سبب بنتا ہے ، جیسا کہ حدیث مبارک میں غار میں پھنس جانے والے تین آدمیوں کے واقعہ میں ملتا ہے کہ انہوں نے صِدق سے کیے ہوئے اعمال اللہ کے سامنے پیش کیے اور اللہ نے ان کی تصدیق فرماتے ہوئے ان کو مصیبت سے نجات دی ،
لہذا ایک مومن بندہ کبھی بھی جھوٹا نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ جھوٹ کئی گناہوں کی جڑ ہے، موطا امام مالک میں ہیکہ آپ ﷺ سےپوچھا گیا کہ کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے ؟ کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے ؟ تو آپ نے ہر سوال کے جواب میں کہا کہ ہاں کبھی کبھار ہو سکتا ہے لیکن جب آپ سے پوچھا گیا کہ کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں ، کبھی نہیں ہوسکتا ہے۔۔۔ اخیر میں اللہ رب العالمین سے دعا ہیکہ مولی ہمیں سچائی کو خوگر بنائے اور ہمیشہ سچ لوگوں کے ساتھ میں رکھے اور کبھی بھی جھوٹ کی طرف بھی نہ جانے دے ۔
وأخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*