گالی ایک دینی و سماجی برائی

 

 

گالی ایک دینی و سماجی برائی 

(ایک تقریر)

نحمده ونصلي على رسوله الكريم أما بعد:

صدر مجلس ! حکم صاحبان اور معزز اساتذہ کرام انسان کی زبان اس کے جسم میں ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے اسکے سارے اعضاء بہت ہوشیار رہتے ہیں بلکہ یہی زبان انسان کو جنت و جہنم میں لے جانے کیلئے ایک چھوٹے سے بٹن کی حیثیت رکھتی ہے  ۔ اسی وجہ سے قرآن پاک نے ہمیں ایک طرف تعلیم دی ہے کہ {قولوا قولا سدیدا} تو دوسری طرف { قولوا للناس حُسنا} کہ کر بیہودہ گوئی ، بدزبانی ، لچرپن ،فحش گوئی اور دشنام طرازی سے سختی کے ساتھ منع کردیا ہے  ۔ لہذا ہمیں بدزبانی، فحش گوئی، زبان کے بے ہودہ، غلط اور ناجائز استعمال سے بچنا چاہیئے خواہ کسی بھی شکل میں ہو ۔جب اللہ کے یہاں طنز و تعریض کرنا اور اقوال و افعال سے لوگوں کو تکلیف دینا اتنا بڑا جرم ہیکہ اس پہ ویل اور تباہی کی وعید آ گئی ہے تو پھر گالی جو کہ نہایت ہی قبیح اور الفاظ غلیظہ کا مجموعہ ہوتی ہے تو اس کوکیسے روا رکھا جاسکتا ہے ۔ فرمان باری تعالی ہے :  {وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَة} یعنی تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو )منہ کے سامنے( لوگوں پر طعن و تشنیع  اور )پیٹھ پیچھے( برائیاں کرنے کا  عادی ہے ۔

 مذہب اسلام نے گالی کو ایک سنگین جرم اور بد ترین گناہ قرار دیا ہے۔ مگر افسوس! آج ہمارے معاشرے میں گالی گلوچ کا چلن دن بہ دن عام ہوتا جارہا ہے ۔ بعض افراد ایسے بھی ہیں جو غصّے کی حالت میں آپے سے باہر ہوکر گالیاں بکتے ہیں مگربہت سارے تو بات بات میں مزاحاً گالی بک دیتے ہیں گویا کہ ان افراد کا تکیہ کلام ہی گالی ہے۔ایسے لوگوں کو یہ فرمان نبوی سننا چاہئے کہ:{ ليس المؤمن بالطعّان ولا اللعّان ولا الفاحش ولا البذيء } مومن  نہ طعنہ زنی کرنے والا ہوتا ہے ، نہ لعنت کرنے والا ، نہ فحش بکنے والا اور نہ زبان درازی کرنے والا ۔ ایک اور حدیث میں فرمایا  : ( لعن المسلم كقتله ) یعنی  ایک مسلمان بھائی کو لعن طعن کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔

سامعین کرام جو دین اپنے ماننے والوں کو گالی گلوچ سے اس قدر دور رکھتا ہو تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ اس دین کا علم حاصل کرنے والے گالی گلوچ اپنے منہ سے نکالیں جو اللہ رب العامین کو قطعی پسند نہ آئے کیونکہ اسنے فرما دیا ہے کہ { لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم }۔یعنی “اللہ پاک بری بات کو زور زور سے کہنا پسند نہیں کرتا ہے”۔ تو گالی کو کیسے پسند کریگا کیونکہ گالی صرف ایک بری بات ہی نہیں ہے بلکہ گالی بےحیائی ، بدکلامی ، فحاشی، دشنام طرازی اور زبانی عریانیت ہے ۔ یہ وہ بیماری ہے کہ جس میں انسان اپنے اندر کی خباثت کا میل کچیل اپنی زبان سے اوروں پر انڈیل انڈیل کر یہ کہ رہا ہوتا ہے کہ دیکھو میں ہی ہوں جس کا باطن اس کے ظاہر سے بھی زیادہ گندہ ہے، میں ہی ہوں جس کو عزت نام کی کوئی چیز معلوم نہیں ہے ،میں ہی ہوں جسے سماج میں صوتی آلودگی پھیلانے کیلئے جانا جاتا ہے ۔

سامعین کرام! گالی صرف ایک سماجی ناسورہی نہیں ہے بلکہ اللہ کے دین میں ایک کھلی بے راہروی کا مظہر ہے ، فسق و فجور ہے ۔جیسا کہ فرمان رسول  ہے “سباب المؤمن فسوق وقتاله كفر ” یعنی کسی مسلمان بھائی کو گالی دینا فسق و فجور ہے۔  آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں فاسق کون ہوتا ہے ؟ فاسق وہ ہوتا ہے جس سے اللہ راضی نہیں ہوتا{فإن الله لا يرضى عن القوم الفاسقين }. اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ہے{ والله لا يهدي القوم الفاسقين} اور فاسق لوگ ہی ہلاک و برباد ہوتے ہیں ،فرمایا { فهل يهلك إلا القوم الفاسقون }.اس حدیث پاک سے ہم یہ نہ سمجھیں کہ صرف مسلمانوں کو ہی گالی دینا حرام ہے بلکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں معبودان باطلہ تک کو گالی دینے سے سختی کے ساتھ منع فرما دیا ہے اور اعلان کیا کہ { وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّواْ اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ  } ترجمہ:  “اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت میں پکارتے ہیں کیونکہ پھر وہ جاہلانہ ضد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کردیں گے” ۔ایک جگہ نبی اکرم ﷐ نے گالی گلوچ کو منافق کی نشانی قرار دیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق کی چار نشانیاں ہیں۔ جب بولے جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، امانت ملے توخیانت کرے اور جب جھگڑا ہوجائے تو گالی گلوچ پر اتر آئے۔ اسی طرح کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کرتے ہوئے حضور ﷐نے فرمایا: بڑے گناہ یہ ہیں کہ کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے؟ فرمایا:ہاں! کوئی آدمی کسی کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے توجواب میں وہ اس کے والدین کو گالی دیتا ہے۔۔۔ گویا کہ کسی کے والدین کو گالی دینا درحقیقت حقیقی والدین کو گالی دینے کے برابر ہے۔ اللہ اکبر! مگر ہائے افسوس! آج کل تو ایسے کم نصیب لوگ بھی معاشرے میں موجود ہیں جو براہ راست اپنے والدین کو گالیاں دے کر جہنم کا ایندھن بنتے ہیں۔

میرے بھائیو! اگر کوئی آپ کو گالی دے تو وہاں آپ کو صبر کرنا چاہیئے کیونکہ یہ  بڑے عزم و ہمت والی چیز ہوتی ہے جو کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے اور دوسری بات جو میں آپ کو بتانا چاہ رہا ہوں کہ گالی دینے والوں میں  سے جو شخص ابتداء کریگا ،سارا گناہ اسی کے سر ہوگا جیسا کہ فرمان رسول  ہے : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: “المُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مِنْهُمَا، مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ”  .  ترجمہ : ” دو آپس میں گالی دینے والےجو کچھ کہتے ہیں تو اسکا سارا گناہ ان میں سے شروعات کرنے والے کے سر جاتا ہے جب تک کہ مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے “۔  اب اخیر میں ایک حدیث پاک  سے اپنی بات کو ختم کرتا ہوں  جس میں ہم سب کیلئے ایک نصیحت اور ایک تعلیم ہے ۔ حضرت جابر بن سلیم ﷜نے آپ ﷐ سے کہا کہ آپ مجھے کوئی نصیحت کر دیجئے تو آپ نے فرمایا : {لا تسُبّنّ أحداً} “ہرگز کسی کو گالی نہ دینا “  جابر بن سلیم کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے  کسی آزاد آدمی کو گالی دی نہ کسی غلام کو اور نہ کسی اونٹ  اور بکری ہی کو۔ اللہ تعالی ہمیں بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے والا بنائے ۔ آمین

وآخرُ دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

             فواد اسلم المحمدی المدنی: (16 ؍ فروری ۲۰۱۹)

            جامعہ محمدیہ منصورہ ۔ مالیگاوں

 

  • Atiullahmadni@gmail.com
    September 3, 2020 at 12:14 pm

    ماشا الله تبارك الله وفقك الله لكل خير وزادك علما وفضلا
    خطبة رائعة جدا مستدل بالقرآن والسنة

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*