حیاء سے آزادی

حیاء سے آزادی 

            بعض لوگ ہمیشہ غلامی ہی محسوس کرتے رہتے ہیں چاہے وہ جنگ آزادی کی صف میں کھڑے ہوں ، کیونکہ ان کے اردگرد لوگوں کا وجود ان کے لئے کسی قید و بند کی صعوبت سے کم نہیں ہوتا ہے اور ایسا نہیں کہ وہ اس قید وبند میں رہ کر نیکیوں سے دور ہوجانے کی وجہ سے ملول رہتے ہیں بلکہ ان کے اندر کی حیاء انہیں گناہوں سے روک کر رکھتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے ۔ اگر اتنی بات ہے تو ٹھیک ہے ، بلکہ ”الحیاء من الایمان “ کے بحکم ایسے لوگوں کے اندر گویا ایمان باقی ہے ، اگرچہ وہ حیاء انسانوں اور بندوں سے ہی کر رہےہیں ۔

             لیکن وہ شخص جو بندوں سے تو خوب حیاء کرے لیکن جب اسے خلوت کا موقع ملے تو اپنی ساری حدیں پار کردے او ر وہ کچھ کر بیٹھے جو کوئی بے حیاء بھی نہ کرتا ہو ۔ تو آخر ایسی حیاء کس کام کی جو لوگوں سےتو  حیاء کرائے لیکن  لوگوں کے رب کے سامنے بے حیاء کردے ۔ کیا اللہ رب العالمین ہی سب سے کمتر درجہ رکھتا ہے دیکھنے والوں میں ؟۔ علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے ’روضة المحبين ونزهة المشتاقين‘ میں ایک واقعہ نقل کیا ہےکہ پرانے زمانے میں کوئی نوجوان کسی لڑکی کے عشق میں پاگل تھا اور اس کے ایک دیدار کو ترستا رہتا تھا ، لوگوں نے پوچھا:  اگر تم کبھی اسے اکیلے میں پا جاؤ اور کوئی نہ دیکھ رہا ہو تو اس کے ساتھ کیا کیا کروگے ؟ نوجوان نے جواب دیا  کہ : لا تجعل الله أهون الناظرين إليیعنی تم اللہ کو تو بخش دوکہ اسے سب سے گھٹیا دیکھنے والا نہ بناؤکہ میں تمہاری نگاہوں میں اچھے کام کروں ، اور جب صرف اللہ کی نگاہ مجھ پر رہ جائے تو برے کام کرنے پہ آجاؤں۔

            لیکن یہ جواب تو پرانے زمانے کے عاشقوں کے ہوا کرتے تھے، آج اس زمانے کے بڑے سے بڑے اہل جبہ و دستارکا کیا حال ہے؟کیا ان کی خلوت ان کے جلوت سے زیادہ بھیانک نہیں ہے؟کیا وہ اپنی خلوت کو ایسی آزادی نہیں سمجھتے کہ جہاں انہیں ہر وہ کام کرنے کا موقع مل جاتا ہےجسے وہ عام لوگوں میں زبان پہ لانا بھی گوارہ نہ کرتے ہوں۔ گویا ساری حیاء اور شرم صرف پبلک سے ہے ، اللہ سے کچھ نہیں ۔جبکہ اللہ رب العالمین ہی زیادہ مستحق ہیکہ اس سے حیاء کی جائے، کیونکہ یہ حیاء ایمان ہے، اخلاق ہے، اور اللہ کے لئے ہوتو، عبادت ہے۔ لیکن اسے اس قدر مول بھاؤ کی بھینٹ چڑھا دیا گیا کہ جب فلاں اورفلاں دیکھیں تو حیاء اعلی لیول کی ہوگی  اور اگر دوسرے فلاں نے دیکھا تو حیاء دوسرے لیول پر آجائے۔اور جب صرف اللہ رب العالمین ہی دیکھ رہا ہوتا ہے تو حیاء بالکل اپنے آخری لیول پہ آجائے یا معدوم ہی ہو جائے، معاذ اللہ! یہ اس  رب العالمین سے معاملہ ہے  جس نے ہماری تمام برائیوں پہ پردہ ڈال رکھا ہے ۔

            دراصل خلوت کی ضرورت ایک خدا ترس آدمی کیا، بلکہ ہر شخص کو پڑتی ہے جو فطرت سلیمہ پر ہو، تاکہ وہ اس وقت اللہ کی طرف متوجہ ہو سکے ،اس سے  لو لگا سکے ،استغفار کرسکے ،کچھ مناجات کرسکے اور ڈھیر ساری دعائیں مانگ سکے۔ یہ خلوت ہی  تو ہے جو  انسان کواپنامحاسبہ اور مراقبہ کرنے پہ مجبور کرتی  ہے۔ اور بالخصوص ایسے وقت جب یہ بہترین ظرف ،ایک بہترین اور اعلی خُلق ”حیاء“ سے ہم آہنگ ہو جائےاور وہاں پر حیاء  برقرار بھی رہے تو اسی کو نور علی نور کہتے ہیں اور یہی اللہ کے نیک طینت بندوں کا اصل سرمایہ ہےجس کےلئے وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر جاگتے ہیں ۔

            دین اسلام میں خلوت کی نیکیوں کا اتنا اونچا مقام حاصل ہے کہ ایسا کرنے والوں کو کل قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سایے میں جگہ ملے گی ، لہذا ہمارے نامۂ اعمال میں خلوت کی نیکیاں زیادہ ہونی چاہیئے، کیونکہ یہی درپردہ نیکیاں انسان کےخلوص  اور للہیت کو اوجِ ثریا پر پہونچا دیتی ہیں ، جہاں ایک معمولی سا عمل بھی  پہاڑوں سے بڑا دکھائی دیتا ہے۔

            حدیث شریف میں آتا ہیکہ کچھ لوگ  قیامت کے دن پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے لیکن اللہ رب العالمین ان کو پراگندہ ذروں کی مانند بے حیثیت بنا دیگا ، صرف اس وجہ سے کہ وہ لوگ جب کبھی حرام چیزوں کو اکیلے میں پاتے تو ان کی حرمت پامال کرکے انکا ارتکاب کر لیا کرتے تھے۔ عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : ” لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي، يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ، بِيضًا، فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا “. قَالَ ثَوْبَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُمْ لَنَا، جَلِّهِمْ لَنَا ؛ أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ. قَالَ : ” أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ، وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ، وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا “.( ابن ماجه: 4245)

فواد اسلم المحمدی المدنی

۱۰؍ ستمبر ۲۰۲۰

 

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*