سیکولرازم پر کچھ باتیں اور دلتوں کے ماس کنورژن پر ایک تبصرہ

سیکولرازم پر سب سے بڑا ظلم تب ہوا جب اسکی تعریف کچھ کم فہموں نے اس طرح کیا کہ:

فصل الدین عن السیاسة

جبکہ سیکولرازم خود چیخ چیخ کر کہتا رہا کہ کمینو! مجھے اپنی علاقائی اور بین الفرق سیاستوں سے بلند رکھو کہ میں تمہاری ہر نقل و حرکت میں گھس سکوں

لیکن اس مسئلے پر شروع سے نظر رکھنے والے اسے بہت پہلے جان گئے تھے کہ سیکولرازم کی تعریف یوں صحیح ہوگی کہ :

فصل الدین عن مظاهر الحياة كلها

اس تعریف کے ساتھ آپ اس فکر کی خطرناکی ٹھیک ٹھیک سمجھ پائیں گے.

اور اپنے دین اور لادینیت (سیکولرازم) کے درمیان کبھی کنفیوژن کا شکار نہیں رہیں گے

بلکہ اپنی علاقائی سیاست اور دیگر ارد گرد کے مسائل اور احداث پر سٹیک موقف بھی اپنا سکیں گے.

ورنہ جو لوگ اسے صرف سیاست کے تنگ چشمے سے دیکھتے ہیں وہ برابر کشمکش میں رہتے ہیں کبھی سمجھتے ہیں کہ اسی سیکولرازم نے انھیں دنیا میں بقاء اور زندگی عطا کیا ہے بالخصوص ہندوستانی پس منظر میں.

کبھی کہتے ہیں کہ اسی نے تو ہمکو اتنے اتنے حقوق دیئے ہیں لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ اور کیا کچھ ہوا ہے اس سیکولرازم کے پس پردہ.

حتی کہ جو اس نظریہ کا بابا تھا اس کو بھی عین رام راجیہ کے منچ تلے گولی ماری گئی

اور جو دیگر شخصیات ہیں، انکا نفاق اور دو منہ والی باتیں اس سے زیادہ کلیر اور واضح ہیں.

تو کہنے کا مقصد یہ ہیکہ

نوآبادیات اپنے جلو میں سیکولرازم لیکر آیا اور جاتے جاتے اسے سب پر تھوپ گیا

لیکن اس وقفہ میں ہر علاقے کی وہی شخصیتیں “کامیاب” رہیں جو اس تھوپے ہوئے نظام کا نمسکار کرکے اسے اپنے مصالح میں استعمال کرکے اپنا الو سیدھا کرتی رہیں اور مکر و دھاء کے بلند پایہ پہ فائز رہیں.

اور ہم من حیث الامۃ ایک آسمانی رسالت کے حامل، ایسی تاریخ کے حامل کہ جس کا دراسہ سیکولرازم کے ایوانوں میں ہوتا ہے، ہم اسقدر ہوپ لیس اور واہیات ہو جائیں کہ اپنے ثوابت اور مسلمات میں ہی متزلزل ہو جائیں.

نعوذباللہ من شرور أنفسنا.

________________________________________________

میرے ایک بھائی مرزا احمد وسیم بیگ وفقہ اللہ کی ایک پوسٹ جس میں ہندوستان کے دلتوں کے لئے ماس کنورژن کا مشورہ دیا گیا ہے.

اس پوسٹ پر میرے کچھ خدشات اور ٹوٹا پھوٹا تبصرہ :

پوسٹ:

میری ناقص رائے یہ ہے کہ دلت نہ مار پڑنے سے سدھریں گے، نہ ذلیل ہونے سے

 اور نہ دنیوی سیاسی اتحاد یا دکھاوے کے احترام وغیرہ سے

یہ سدھریں گے تو ایک چیز سے: پوری سنجیدگی، منصوبہ بندی اور محنت سے انہیں براہ راست دین کی دعوت دینے سے۔

ہمارے قائدین “ماس کنورزن” سے بہت خوفزدہ رہتے ہیں، اس لیے اس طرح کے کسی بھی منصوبے سے کوسوں دور رہتے ہیں جس کا انجام ماس کنورزن (یدخلون فی دین اللہ افواجا) ہو۔ لیکن دلت اور مسلمانوں دونوں کے مسائل کا حل یہی ہے کہ دلتوں کی بڑی تعداد مسلمان ہوجائے۔ اگرچہ اس مقصد تک پہنچنے کے لیے راستے میں کتنی بھی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔ قربانیاں انبیاء کی سنت ہیں

________________________

تبصرہ :

کچھ مؤلم ارض واقع ہے جو یکا دکا کنورزن سے روکتا ہے چہ جائے کہ ماس کنورشن ہو.

وہ یہ کہ کیا ہم مسلمان حضرات خود ذات برادری سے نہیں چپکے ہوئے ہیں

بلکہ یہ لعنت جنکا خاصہ تھی وہ تو ایک رام ایک نیشن اور ایک دھرم کی متحدہ اتجاہ دکھانے میں کامیاب ہو رہے ہیں، جبکہ ہم ہر چیز میں وحدت والی قوم ہونے کے باوجود اپنے اندر ان سے زیادہ بھید بھاو اور ذات پات نہیں بسائے ہوئے ہیں کہ بسا اوقات ہماری اپنی “جاتی وویستھا” دیکھ کر ایک دلت بھی شرما جائے.؟؟

فی الحال ارض واقع یہ ہوا بیٹھا ہے کہ انھوں نے اپنے ماس یونیٹی کا پورا انتظام کر لیا ہے اگر چہ پروپیگنڈائی انداز میں ہی کیوں نہ ہو. اور مسلم نفرتی بیانات پر ہی کیوں نہ ہو

لہذا اس جانب پہلے ہمیں اپنی ایک اعلی تربیت یا آپ کے الفاظ میں بڑی قربانی کی ضرورت ہے.

دوسری طرف اس بارے کی ایک تاریخ ماضی قریب کی سامنے ہے،

 گاندی کا مکر پونا پیکٹ میں یوں ہی نہیں دکھا تھا بلکہ اس مکر نے اس اچھوت قوم کو بڑے دیر کیلئے اندھکار میں پھینک دیا ہے.

جبکہ اس وقت دلت قیادت بھیم راؤ امبیڈکر کی تھی جو معمولی آدمی نہیں تھے.

لیکن پھر بھی بیچارے کو منہ کی کھانی پڑی.

اور ہاں اس نے بھی ایک بڑا ماس کنورژن کرا بھی لیا تھا. اور اس ماس کنورژن سے سوائے اسے تنہائی کے اور کچھ نہ ملا جبکہ گاندھی جی کا مکر زیادہ پائیدار ہوا اور اس کے جال میں زبادہ بڑی دلت آبادی آئی.

اس لئے میرے ابھی تربیت کا ایک بڑا پروسیس باقی ہے اندر بھی اور باہر بھی.

….

علی کل حال آپ کی باتوں سے کلی اتفاق ہے بالخصوص ہماری قیادت جس ماس کنورژن سے ڈرتی ہے اس والی بات کا تو مجھے پورا ادراک اور احساس ہے

بلکہ حالت ایں جا رسید کہ ہمارے پاس یکا دکا کنورژن کی پشت پناہی یا تحفظ تک کا کوہی انتظام نہیں ہے. چاہے سوسائٹی لیبل پر ہو یا جمعیت و جماعت کی حد تک.

اللہ ہمارا مدگار ہو مالک! یہی دعا ہے

وجزاكم اللہ خیرا

فؤاد أسلم المدنی

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*